اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، یمن کی وزارت دفاع کے فوجی مشیر بریگیڈیئر عابد محمد الثور نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنے بحری بیڑے کے ذریعے فوجی مداخلت کرتا ہے یا باب المندب پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو یمن اس اقدام کا مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا سعودی عرب کی حمایت میں کارروائی کرتا، فضائی حملے یا فضائی معاونت فراہم کرتا ہے تو یمن خطے میں موجود تمام امریکی مفادات کو ہدف تصور کرے گا اور کسی کو استثنا نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں امریکی بحری جہازوں کے لیے باب المندب مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔
یمن کے فوجی عہدیدار نے ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ تہران صنعا کو احکامات نہیں دیتا۔ ان کے بقول ایران یمن کا دوست، اتحادی اور برادر ملک ہے، لیکن یمن اپنے فیصلوں اور خودمختاری میں آزاد ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’اتحاد اور ایک جسم‘‘ قرار دیا۔
الثور نے سعودی عرب کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر حملے جاری رہے تو سعودی عرب کو ’’آہنی مکا‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق صنعا حکومت کی افواج کے پاس سعودی عرب کو ’’سزا دینے‘‘ اور تیل و اقتصادی شعبوں میں اسے میدان سے باہر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
آپ کا تبصرہ